بیٹے کی آرزو قسط نمبر 22


میں نے فرح باجی سے کہا کہ لگتا ہے کہ آج ہی بہت مزہ آنے والا ہے۔فرح باجی نے کہا کہ نہیں ہم نے پلان کیا ہے کہ جب تک پریگننسی والی بات اوپن نہ ہو کچھ کرنا نہیں ہے صرف دونو کو قریب ہونے کا موقع دینا ہے۔ لیکن آج رات جو بھی ہو تم نے مجھے اپنے موٹے لوڑے سے چودنا ہے میں نے کہا کہ وہ کیسے؟ فرح باجی کہنے لگیں کہ چودنا بھی میرے بیڈ پر ہے اور سکیم بھی تم خود بناؤ۔

میں نے کہا کہ یہ تو مشکل میں ڈال دیا لیکن میں نے دل میں سوچا کہ مشکل کس بات کی ہے عامر بھائی کو تو خود شوق ہے کہ ان کی بیوی ان کی موجودگی میں مجھ سے چدے ۔اب وہ سونے کا ڈرامہ کرتے رہیں گےاور میں اسی بیڈ پر ان کی بیگم کو چود ڈالوں گا اور اس سے وہ بہت مزہ لینا چاہتے ہیں۔ اب وہ بہانہ کر لیں گے کہ میں کوئی نیند کی گولی لینے لگا ہوں اور دوسری طرف کروٹ لے کر جاگتے ہوئے محسوس کر سکیں گے کہ ان کی بیوی انہیں کے بیڈ میں اپنے بہنوئی اور ان کے ہم زلف سے چد رہی ہے۔

یہ سوچ کر میں نے فرح باجی سے کہا کہ پھر میں آپ کی گانڈ ماروں گا۔ فرح باجی نے کہا کہ ڈن۔ ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ برہ اور عامر بھائی کمرے میں داخل ہوئے ۔ وہ کسی بات پر ہنس رہے تھے اور میں نے دیکھا کہ عامر بھائی بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔اور ان کا ٹراؤزر لوڑے والی جگہ سے کچھ ابھرا ابھرا لگ رہا تھا۔ لگتا تھا کہ برہ کے مرض کا وہی علاج ان کے پاس تھا جو ان کی بیوی کے دکھ کے مداوے کے طور پر میرے پاس تھا۔ہم چاروں بیٹھ کر چائے پینے لگے۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم نے چائے ختم کی تو عامر بھائی کہنے لگے کہ یار مجھے تو سخت نیند آ رہی ہے اور سر درد اور تھکاوٹ بھی محسوس کر رہا ہوں اس لیے میں تو نیند کی گولی لینے لگا ہوں اوکے گڈ نائٹ یہ کہہ کر انہوں نے ایک دو گولیاں نکالیں اور کھا کر لیٹ گئے۔ میں اور برہ کمرے سے نکلے اور اپنے بیڈ روم میں آ گئے۔اپنے بیڈ روم پہنچتے پہنچتے برہ نے مجھے چوم چوم کر گرم کر دیا ہوا تھااور اندر داخل ہوتے ہی ہم دونوں ننگے ہو چکے تھے اور کسنگ زور شور سے جاری تھی۔اور بیڈ پرجانے کی مہلت نہ ملی اور میں نے لوڑا برہ کی چوت میں پیل دیا اور برہ بھی دو بار ڈسچارج ہو چکی تھی۔ برہ کہنے لگی کہ فرح باجی آج آپ سے چدوانا چاہتی ہیں میں نے مصنوعی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ عامر بھائی کے بیڈ پر سوتے ہوئے میں فرح باجی کو چودوں؟ لیکن برہ کہنے لگی کہ عامر بھائی تو نیند کی گولی کھا کر سو رہے ہیں آپ جا کر چود لینا میں یہاں لیپ ٹاپ پر دیکھوں گی اور ریکارڈ بھی کروں گی تا کہ بعد میں آپ بھی دیکھ سکیں کہ کس طرح آپ نے عامر بھائی کی موجودگی میں ان کی بیوی کو چودا۔ میں نے کہا کہ فرح سے کہو کہ جب عامر بھائی مکمل گہری نیند سو جائیں تو مجھے میسج کر کے بلا لیں۔ ابھی ہم یہ باتیں کر رہے تھے کہ فرح باجی کا میسج آ گیا کہ برہ اپنے ٹھوکو کو میرے پاس بھیج دو تم تو لگتا ہے کہ پانچ چھ بار ڈسچارج ہو چکی ہو بس پھر کیا تھا برہ نے مجھے کہا کہ آپ فورا جائیں اور میری باجی کی چوت کیپیاس بجھائیں۔ چنانچہ میں برہ کی منی سے لتھڑے ہوئے اپنے لوڑے کا لہراتا ہوا اپنے بیڈ روم سے نکلا اور ٹراوزر میں نے اپنے کندھے پر رکھ لیا اورفرح باجی اور عامر بھائی کے بیڈ روم کی طرف بھاگا۔جیسے ہی عامر بھائی کے بیڈ روم میں داخل ہوا دروازے پر ہی کپڑوں کی قید سے آزاد فرح باجی نے میرا استقبال کیا اور میرا لوڑا گیلا گیلا جو ان کی بہن کی پھدی چود کر نکلا تھا اپنے منہ میں لے کر چاٹنا اور چوسنا شروع کر دیا۔ میں نے بھی اپنی شرٹ اتار دی اور ٹراؤزر تو پہلے ہی میرے کندھے سے گر گیا تھا۔ مجھے یہ تھا کہ عامر بھائی بھی یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی بیوی کی چدائی ایک موٹے اور لمبے لوڑے کے ساتھ شروع ہو چکی ہے ہےاور ادھر میری بیوی بھی دیکھ رہی ہے کہ اس کی بڑی باجی اپنے سوئے ہوئے شوہر کے ساتھ بیڈ پر لیٹے لیٹےاپنے بہنوئی سے چد رہی ہے اور آج تو گانڈ چدنے والی ہے۔سکیم کے مطابق میں نے فرح باجی کو گود میں اٹھایا اور برہ کی منی اور فرح باجی کی تھوک سے لتھڑا ہوا لوڑا ان کی چوت میں آرام سے ڈال دیا تا کہ ان کی یوٹرس پر کوئی دباؤ یا ٹھوکر نہ لگے۔ اب باجی فرح بھی ڈسچارج ہو گئیں اور میں نے آرام آرام سے وہیں کھڑے کھڑے لوڑا اندرباہر کرنا شروع کر دیا اور کچھ آوازیں بھی مزے والی نکالنی شروع کر دیں تا کہ عامر بھائی کے کانوں میں ہماری سیکسی آوازیں جائیں اور وہ بھی اندر ہی اندر اپنا لوڑا کھڑا محسوس کریں اور مزہ لیں۔چنانچہ میں نے عامر بھائی کے جسم میں تھوڑی حرکت دیکھی اور سمجھ گیا کہ عامر بھائی کا لوڑا بھی کھڑا ہو چکا ہے اور وہ اب مکمل انجوائے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ میں نے آرام سے فرح باجی کو بیڈ پر لٹایا اور کسنگ کرتے ہوئے ان کی چوت مارنے لگا۔ دس منٹ چوت مارنے اور تین چار بار انہیں ڈسچارج کرنے کے بعد میں نے ان کو کہا کہ گانڈ والا تحفہ مجھے دیں۔ میں تھوڑا اونچی آواز میں کہا تاکہ عامر بھائی سن لیں کہ اب ان کی پیاری بیوی کی گانڈ ان کے ہم زلف کے لوڑے کا شکار بننے لگی ہے۔ چنانچہ خوشی خوشی فرح باجی نے اپنی گانڈ پر تھوک لگایا اور میرے سامنے کر دی۔ میں نے بڑے آرام کے ساتھ ان کی گانڈ کی موری پر اپنا لوڑا رکھا اور آہستہ سے اندر دکھیلا۔ گانڈ مروا مروا کر رواں تو کروا ہی لی ہوئی تھی اس لیے میرا لوڑا تھوڑی سی تگ و دو کے بعد جڑ تک ان کی گانڈ میں اتر گیاا ور فرح باجی مزے سے سسکارنے لگیں انہیں بھول گیا تھا کہ ان کا شوہر بھی اسی بیڈ پر سویا ہوا ہے ہم دونو مکمل مدہوشی میں چدائی کا کھیل کھیل رہے تھے۔ می ںنے تقیربا آدھا گھنٹہ باجی فرح کی گانڈ ماری اور پھر باجی فرح سے کہا کہ بیڈ اس قدر ہل رہا ہے کہ عامر بھائی جاگ نہ جائیں اس لیے ہم اب بس کریں اور میں اپنی منی آپ کی یوٹرس میں نکال دیتا ہوں لیکن فرح کہنے لگی کہ نہیں ابھی آپ نے اسی طرح گندے لوڑے کے ساتھ جا برہ کی پھدی اور گانڈ مارنی ہے میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں چلتا ہوں آپ آرام کریں پھر ایک لمبی کسنگ ہوئی اور میں نے اسی طرح ٹراؤزر اور شرٹ اپنے کندھوں پر رکھی اور لوڑا لہراتا ہوا ان کے کمرے سے نکل کر نیچے کی طرف بھاگا اور اپنے کمرے میں آ کر ننگی بیڈ پر لیٹی ہوئی اپنی بیوی کی چوت میں لوڑا ڈال دیا اس وقت تک برہ میری اور اپنی فرح باجی کی بنائی ہوئی مووی لگا چکی تھی اور وہ مجھے کہہ رہی تھی کہ دیکھیں عامر بھائی کیسے مزے سے سوئے ہوئے ہیں اور انہی کے بیڈ پر ان کی بیوی ایک غیر مرد سے چدوا رہی ہے۔ میں نے کہا کہ برہ تمہیں معلوم ہے کہ عامر بھائی جاگ رہے ہیں اور یہ سکیم عامر بھائی کی ہی تھی اور پھر میں نے مووی دیکھتے اور برہ کو چودتے ہوئے دفتر میں ہونے والی ساری بات بتا دی جس سے برہ بہت خوش ہوئی کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ ایڈوانچر بنا رہے ہیں اور یہ اصل میں ایڈوانچر میرے اور فرح باجی کے لیے تھا لیکن ابھی ہم نے فرح باجی کو یہ احساس نہیں ہونے دینا کہ عامر بھائی کو یہ سب معلوم ہو چکا ہے اور تم بھی انجان بنی رہنا کہ تمہیں بھی نہیں علم تاکہ عامر بھائی کو بھی تمہیں اس وقت چودنے کا مزہ آ سکے جب میں اسی بیڈ پر سویا ہوا ہوں گا اور تمہیں وہ چود رہے ہوں گے۔ میں نے کہا کہ ہاں میں یہ بھی ایڈوانچر بناؤں گا کہ اسی طرح میں سو رہا ہوں گا اور عامر بھائی تمہیں چودیں اسی بیڈ پر۔ برہ نے یہ سنا تو اس کا جوش بڑھ گیا اور ہم نے روز شور سے چدائی شروع کر دی حتی کہ برہ پانچ منٹ میں کوئی دس بار ڈسچارج ہوئی۔ دس پندرہ منٹ کی دھواں دار چدائی کے بعد میں نے برہ کی گانڈ میں لوڑا ڈالا اور پھر پانچ منٹ کی چدائی کے بعد وہیں فارغ ہو گیا۔ اور ہم بے سدھ ہو کر لیٹے اور سو گئے۔ جاری

This content appeared first on new sex story .com

This story بیٹے کی آرزو قسط نمبر 22 appeared first on newsexstory.com

More from Urdu Sex Stories

Published by

Leave a Reply